24 اپریل 2013 - 19:30
ہمارا انقلاب معنوی انقلاب

حجۃ الاسلام و المسلمین جناب اختری صاحب نے ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ہمارا انقلاب، معنوی انقلاب ہے۔ ہمارا انقلاب دنیا کے تمام انقلابوں سے فرق کرتا ہے۔ وہ انقلاب جو محمدی، علوی، فاطمی، حسینی اور مہدوی ہو اسے پوری دنیا میں پھیلنا چاہیے پوری دنیا اس بات کی انتظار میں ہے کہ کوئی نجات بخش اور معنوی قدرت انہیں ان گوناگوں طوفانوں میں غرق ہونے سے نجات دلائے۔

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حجۃ الاسلام و المسلمین جناب اختری صاحب نے گزشتہ روز ’’ شہداء کی ماوں اور بیویوں تعظیم‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ہمارا انقلاب، معنوی انقلاب ہے۔ ہمارا انقلاب دنیا کے تمام انقلابوں سے فرق کرتا ہے۔ وہ انقلاب جو محمدی، علوی، فاطمی، حسینی اور مہدوی ہو اسے پوری دنیا میں پھیلنا چاہیے پوری دنیا اس بات کی انتظار میں ہے کہ کوئی نجات بخش اور معنوی قدرت انہیں ان گوناگوں طوفانوں میں غرق ہونے سے نجات دلائے۔انہوں نے کہا: پوری دنیا کی مسلمان خواتین حضرت زہرا (س) کو اپنا آئیڈیل قرار دے کر اسلام کے دشمنوں کا مقابلہ کر سکتی ہیں مخصوصا شہداء کی مائیں اور بیویاں۔ اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے کہا: ہمارے دشمن امریکہ اور اسرائیل ہمیشہ اس تلاش میں ہیں کہ معنویت کے ارکانوں کو منہدم کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا: مادی مفکرین انسان کو صرف مادی رخ سے دیکھتے ہیں لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان کا یہ رخ حیوانی رخ ہے۔ اور اس کا دوسرا رخ ملائکہ سے برتر ہے۔ انسان معنویت کے ذریعے ملائکہ سے بھی آگے بڑھ سکتا ہے لیکن دشمن اس رخ کے تقویت پانے سے وحشت زدہ ہیں وہ معنویت جس کا آئیڈیل رسول خدا(ص) اور حضرت زہرا(س) ہیں دشمن اس سے ہراساں ہیں۔حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے کہا: علامہ شہید مطہری کہا کرتے تھے: ہم ایرانیوں کی برائی یہ ہے کہ ہم نے اپنے اعزاز کو فراموش کر دیا ہے ہمارا اعزاز اہلبیت علیہم السلام ہیں ہمارا انقلاب اور ہمارے شہدا ہیں۔انہوں نے مزید کہا: جس امت کے اندر معنویت پائی جاتی ہو اس میں برائیاں رواج پیدا نہیں کرتیں اس میں دینی تعلیمات فراموش نہیں ہوتیں، جیسا کہ ہم نے تجربہ کیا ہے کہ ہماری معنوی طاقت نے ہمارے ملک کو نجات دی۔ یہ معنوی قدرت ہی تو تھی جو امام راحل نے فرمایا: امریکہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہ معنوی طاقت کے بل بوتے پر ہی رہبر انقلاب نے فرمایاہے: صہیونی حکومت اس قابل نہیں ہے کہ ایرانی قوم کے سامنے صف آرا ہو سکے۔ اگر اسرائیل ذرہ برابر ٖحماقت کرنے کی جرائت کرتا ہے تو ایرانی قوم تل ابیب اور حیفہ کو خاک میں ملا دے گی۔ جبکہ شاہ کے دور میں ایران اسرائیل کو ایک ملک تسلیم کر کے اس کی تعریف کرتا تھا۔حجۃ الاسلام و المسلمین اختری صاحب نے کہا: اسی معنوی طاقت نے آٹھ سالہ جنگ میں اس ملک کی پشتپناہی کی۔ جب رضاکاروں کو خون کی ضرورت پڑتی تھی تو لوگ اپنا خون دینے کے لیے صفیں بچھا لیتے تھے۔ خدا پر ایمان، انبیاء کی معرفت اور قیامت پر یقین معنویت کے ارکان ہیں لہذا ایسے دور میں جب دشمن نماز کی اہمیت ختم کر کے، سماج سے اخلاق و ایمان کی دولت لوٹ کر کے معنویت کے ارکانوں کو منہدم کرنا چاہتا ہے، ہمیں ان کے اندر مزید قوت بخشنا چاہیے۔انہوں نے کہا: انبیاء الہی سے قریب ترین افراد مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں وہ انبیاء کے ساتھ بہشت میں وارد ہوں گے۔ سلام و درود ہو ان ماوں پر جنہوں نے ایسے شجاع جوانوں کی تربیت کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲